Friday, December 4, 2009

خدا کی عظمتیں کیا ہیں محمد مصطفٰی (صلی اللہ علیہ وسلم) جانے

 
خدا کی عظمتیں کیا ہیں محمد مصطفٰی(صلی اللہ علیہ وسلم) جانے
مقام مصطفٰے(صلی اللہ علیہ وسلم) کیا ہے محمد کا خدا جانے

صدا کرنا میرے بس میں تھا میں نے تو صدا کردی
وہ کیا دیں گے میں کیا لوں گا سخی جانے گدا جانے

مریض مصطفٰے (صلی اللہ علیہ وسلم) ہوں میں طبیبوں چھیڑو نہ مجھ کو
مدینے مجھ کو پہنچادو تو پھر دارالشفا جانے

میری مٹی مدینے پاک کی راہ میں بچھا دینا
کہاں لے جائیگی اس کو مدینےکی ہوا جانے

مدینے پاک کی تم مانگتے رہنا دعا یارو
اثر ہوگا نہیں ہوگا نبی جانے دعا جانے

ہمیں تو سرخرو ہونا ہے آقا(صلی اللہ علیہ وسلم) کی نگاہوں میں
زمانے کا ہے کیا ناصر بھلا جانے برا جانے

خود میرے نبی نے بات یہ بتا دی ، لانبی بعدی۔ مظفر وارثی

نعت۔ خود میرے نبی نے بات یہ بتا دی ، لانبی بعدی۔ مظفر وارثی
خود میرے نبی نے بات یہ بتا دی ، لانبی بعدی
ہر زمانہ سن لے یہ نوائے ہادی ، لانبی بعدی

لمحہ لمحہ اُن کا طاق میں ہوا جگمگانے والا
آخری شریعت کوئی آنے والی اور نہ لانے والا
لہجہء خدا میں آپ نے صدا دی، لانبی بعدی

تھے اصول جتنے اُن کے ہر سخن میں نظم ہو گئے ہیں
دیں کے سارے رستے آپ تک پہنچ کر ختم ہو گئے ہیں
ذات حرفِ آخر ، بات انفرادی، لانبی بعدی

ارتقائے عالم کر دیا خدا نے صرف نام اُن کے
اُن کی خوش نصیبی جن کے ہیں وہ آقا ، جو غلام ان کے
گونجے وادی وادی آپ کی منادی، لانبی بعدی

اُن کے بعد اُن کا مرتبہ کوئی بھی پائے گا نہ لوگو
ظلی یا بروزی اب کوئی پیعمبر آئے گا نہ لوگو
آپ نے یہ کہہ کر مہر ہی لگا دی ، لانبی بعدی

مظفر وارثی

مدینےکا سفر ہے اور میں نم دیدہ نم دیدہ ۔ اقبال عظیم

مدینےکا سفر ہے اور میں نم دیدہ نم دیدہ ۔ اقبال عظیم
مدینےکا سفر ہے اور میں نم دیدہ نم دیدہ
جبیں افسردہ افسردہ ، قدم لغزیدہ لغزیدہ

چلا ہوں ایک مجرم کی طرح میں جانبِ طیبہ
نظر شرمندہ شرمندہ بدن لرزیدہ لرزیدہ

کسی کےہاتھ نے مجھ کو سہارا دے دیا ورنہ
کہاں میں اور کہاں یہ راستے پیچیدہ پیچیدہ

غلامانِ محمّدﷺ دور سے پہچانےجاتےہیں
دل گرویدہ گرویدہ، سرِ شوریدہ شوریدہ

کہاں میں اور کہاں اُس روضۂ اقدس کا نظارہ
نظر اُس سمت اٹھتی ہے مگر دُزدیدہ دُزدیدہ

بصارت کھو گئی لیکن بصیرت تو سلامت ہے
مدینہ ہم نےدیکھا ہے مگر نادیدہ نادیدہ

وہی اقبال جس کو ناز تھا کل خوش مزاجی پر
فراق طیبہ میں رہتا ہے اب رنجیدہ رنجیدہ

(اقبال عظیم)٫

میرا پیمبر عظیم تر ہے صلی اللہ علیہ والہ وسلم از مظفر وارثی

نعت ۔مرا پیمبر عظیم تر ہے۔۔۔مظفر وارثی
مرا پیمبر عظیم تر ہے
کمالِ خلاق ذات اُس کی
جمالِ ہستی حیات اُس کی
بشر نہیں عظمتِ بشر ہے
مرا پیمبر عظیم تر ہے

وہ شرحِ احکام حق تعالیٰ
وہ خود ہی قانون خود حوالہ
وہ خود ہی قرآن خود ہی قاری
وہ آپ مہتاب آپ ہالہ
وہ عکس بھی اور آئینہ بھی
وہ نقطہ بھی خط بھی دائرہ بھی
وہ خود نظارہ ہے خود نظر ہے
مرا پیمبر عظیم تر ہے

شعور لایا کتاب لایا
وہ حشر تک کا نصاب لایا
دیا بھی کامل نظام اس نے
اور آپ ہی انقلاب لایا
وہ علم کی اور عمل کی حد بھی
ازل بھی اس کا ہے اور ابد بھی
وہ ہر زمانے کا راہبر ہے
مرا پیمبر عظیم تر ہے

وہ آدم و نوح سے زیادہ
بلند ہمت بلند ارادہ
وہ زُہدِ عیسیٰ سے کوسوں آ گے
جو سب کی منزل وہ اس کا جادہ
ہر اک پیمبر نہاں ہے اس میں
ہجومِ پیغمبراں ہے اس میں
وہ جس طرف ہے خدا ادھر ہے
مرا پیمبر عظیم تر ہے

بس ایک مشکیزہ اک چٹائی
ذرا سے جَو ایک چارپائی
بدن پہ کپڑے بھی واجبی سے
نہ خوش لباسی نہ خوش قبائی
یہی ہے کُل کائنات جس کی
گنی نہ جائيں صفات جس کی
وہی تو سلطانِ بحرو بر ہے
مرا پیمبر عظیم تر ہے

جو اپنا دامن لہو میں بھر لے
مصیبتیں اپنی جان پر لے
جو تیغ زن سے لڑے نہتا
جو غالب آ کر بھی صلح کر لے
اسیر دشمن کی چاہ میں بھی
مخالفوں کی نگاہ میں بھی
امیں ہے صادق ہے معتبر ہے
میرا پیمبر عظیم تر ہے

جسے شاہِ شش جہات دیکھوں
اُسے غریبوں کے ساتھ دیکھوں
عنانِ کون و مکاں جو تھامے
خدائی پر بھی وہ ہاتھ دیکھوں
لگے جو مزدور شاہ ایسا
نذر نہ دَھن سربراہ ایسا
فلک نشیں کا زمیں پہ گھر ہے
میرا پیمبر عظیم تر ہے

وہ خلوتوں میں بھی صف بہ صف بھی
وہ اِس طرف بھی وہ اُس طرف بھی
محاذ و منبر ٹھکانے اس کے
وہ سربسجدہ بھی سربکف بھی
کہیں وہ موتی کہیں ستارہ
وہ جامعیت کا استعارہ
وہ صبحِ تہذیب کا گجر ہے
میرا پیمبر عظیم تر ہے



مظفر وارثی

حق آن لائن کے وزٹرز