Showing posts with label منقبت. Show all posts
Showing posts with label منقبت. Show all posts

Saturday, December 5, 2009

امیر المومنین سیدنا علی حیدر

 
بابِ دارالحکمت و گنجینہ ذوقِ وفا
کون تھا پروردہ آغوشِ ختم الانبیاء

ماہرِ علم حدیث و عالم ام الکتاب
کون تھا جس کو پیمبر نے پکارا، ابوتراب

کون تھا رمز آشنا نکتہ شناسِ معرفت
کون فی الدنیا اَنی تھا اور اَنی فی الاخرت

کون تھا پروانہِ شمع حقیقتِ؟ کون تھا
کون تھا دیوانہِ فخرِ رسالت کون تھا

کون تھا پردہ کشائے زندگیِ مستعار
کون تھا وہ تیغ زن جو موت کو کرتا تھا پیار

کون تھا خیبر کے میداں میں رہا جو محترم
کون تھا جنگِ احد میں جو رہا ثابت قدم

کون تھا وہ جنگِ خندق میں ہوا جو سرفراز
کون تھا تیغوں کے سائے میں پڑھی جس نے نماز

منبعِ جود و سخا ، سرچشمہ لطف و عطا
کون تھا کرّار جس کو خود پیمبر نے کہا

کون تھا جس کو لسانِ صدق قرآں نے کہا
کون تھا ہاروں جسے محبوبِ یزداں نے کہا

بندہِ قدسی صفت ، شیرِخدا ، نفسِ نبی
وہ علی تھا ، مصدر اوصاف، معراجِ خودی


امیر المومنین سیدنا عثمانِ غنی

 
قائدِ راہِ شریعت ، ترجمانِ دینِ حق
حامی دستورِ فطرت ، حافظِ آئینِ حق
سابق الایماں ، وفا پرور ، حقیقت آشنا
رنگ و بوئے باغِ ملت ، پیکرِ صدق و صفا
وہ غنی جس کا عرب بھر میں نہ تھا کوئی جواب
وہ سخی ، جس کی سخاوت کا نہ تھا کوئی حساب
وہ حیا پرور ، حیا پر جس کی حوریں بھی فدا
جس کی آمد پر سنبھل بیٹھیں ، حبیبِ کبریا
ہر نظر جس کی حیات افروز ایماں آفریں
ہر نفس جس کا نویدِ عشق ، پیغامِ یقیں
وہ بلند اقبال ، ذوالنورین ، وہ عالی مقام
نیک سیرت ، نیک فطرت، خوش ادا شیریں کلام
مستِ صہبائے نبوت جرعہ نوشِ جامِ حق
جامعِ وحی مقدس ، کاتب الہامِ حق
وہ کہ جس کا عہد تھا اک فارغ البالی کا عہد
امن کا ، آرام کا ، راحت کا ، خوشحالی کا عہد
وہ کہ جس کو دین کی دنیا کی دولت بھی ملی
پھر خلافت بھی ، شہادت کی سعادت بھی ملی

امیر المومنین سیدنا عمر فاروق

 
اک مدبر ، اک مفکر ، ایک مردِ باکمال
ایک مصلح ، ایک رہبر ، اک فقیہہ بے مثال

نعرہ خار اشگاف و ضربتِ باطل شکن
جذبہِ دشمن شکار و قاطعِ دام کہن

جلوہ صبح درخشاں ، تابشِ روئے حیات
سطوتِ دینِ مقدس ، پرتو مہرِ صفات

حاملِ سوزِ دروں ، بالغ نظر ، روشن ضمیر
پیکرِ اوصافِ لاثانی امامِ بے نظیر

کس قدر پُرعظمت و پُر رعب تیرا نام تھا
کفر تیرے نام ہی سے لرزہ براندام تھا

یوں مٹایا زعمِ قیصر ، سطوتِ شاہنشہی
سرنگوں سرکش ہوئے ٹوٹا طلسمِ خواجگی

مصر و ایران و دمشق و روم و موصل اور شام
تیرے ہی حسن و تدبر سے ہوئے زیرِ نظام

اے سراپا عزم و استقلال امام العادلیں
رہنمائے جادہِ عرفاں ، امیر المومنیں

تیرے ہی حق میں ہے یہ فرمودہ خیرالبشر
"بعد میرے گر نبی ہوتا کوئی ، ہوتا عمر"

از عارف سیمابی

امیر المومنین سیدنا ابوبکر صدیق

 
سب سے پہلے جس نے دین و کفر میں تفریق کی

فسق زارِ قوم میں اسلام کی تصدیق کی

سب سے پہلا مردِ مومن ، مصطفے کا جاں نثار

اولیں پروانہ شمعِ رسالت ، یارِ غار

پیکرِ خلق و مروت ، حاملِ سوزِ یقیں

حافظِ ناموسِ وحدت ، واقفِ اسرارِ دیں

وہ خلافت کا ستونِ اولیں ، دیں کی بہار

عرصہ گاہِ جنگ میں بھی تھا جو مردِ کارزار

وہ عروجِ علم و عرفاں ، وہ سیاست کا کمال

جس کی اربابِ سیاست میں نہیں کوئی مثال

جو سمجھتا تھا زر و دولت کا اک مدّ فضول

بس تھا جس کے واسطے اللہ اور اس کا رسول

وہ نہ تھی جس کو گوارا فرقتِ ختم الرسل

مر کے بھی حاصل ہے جس کو قربتِ ختم الرسل



ہو خلافت یا امامت حق کی یا تصدیق ہو

اولیت ہر جگہ حاصل ہوئی صدیق کو

حق آن لائن کے وزٹرز