Showing posts with label مضامین۔. Show all posts
Showing posts with label مضامین۔. Show all posts

Monday, September 13, 2010

متنفل(نفل پڑھنے والے ) کے پیچھے فرض نماز

متنفل کے پیچھے فرض نماز

مسئلہ شرعی یہ ہے نفل والے کے پیچھے فرض نماز ادا نہیں ہوتی ہان فرض والے کے پیچھے نفل نماز ہو جاتی ہے ، فرض نماز میں یہ بھی ضروری ہے کہ امام بھی فرض پڑھ رہا ہو۔ یہ بھی ضروری ہے کہ امام و مقتدی دونوں ایک ہی نماز پڑھیں ، ظہر والا عصر کے پیچھے نماز نہیں پڑھ سکتا مگر غیر مقلد وہابی کہتے ہیں کہ فرض نماز نفل والے کے پیچھے جائز ہے۔ 
نوٹ ضروری: بالغ مسلمان کی کوئی نماز نابالغ بچے کے پیچھے جائز نہیں ، نہ فرض ، نہ تراویح نہ نفل۔ کیونکہ بچہ پر نماز فرض نہیں محض نفل ہے۔ اور بچے کی نفل شروع کرنے کے بعد بھی نفل ہی رہتی ہے۔ اگر بچہ نفل شروع کر کے توڑ دے تو اس پر اس کی قضاء نہیں لیکن بالغ کی شروع ہو کر ضروری ہو جاتی ہے ۔ اگر توڑ دے تو قضا لازمی ہے، اس لئے بالغ کوئی نماز بچہ کے پیچھے نہیں پڑھ سکتا ، مگر غیر مقلد وہابیوں کے نزدیک یہ سب جائز ہے ۔ اس لئے ہم اس باب کی بھی دو فصلیں کرتے ہیں ۔ پہلی فصل میں اس مسئلہ کا ثبوت ۔ دوسری فصل میں اس پر اعتراضات مع جوابات۔

پہلی فصل متفل کے پیچھے مفرض کی نماز نا جائز ہے

فرض نماز نفل والے کے پیچھے ادا نہیں ہو سکتی، اس پر بہت سی احادیث شریفہ اور قیاس شرعی شاہد ہیں ، جن میں کچھ پیش کی جاتی ہیں ۔
نمبر 1 تا 4:
ترمذی ، احمد ، ابو داؤد ( شافعی) مشکوٰۃ نے باب الاذان میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔ قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم الامام ضامن والموذن مؤتمن اللھم ارشد الائمۃ و اغفر للمؤذنین۔ “ فرماتے ہیں کہ فرمایا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے امام ضامن ہے اور مؤذن امین ہے۔ اے اللہ اماموں کو ہدایت دے اور موذنوں کو بخش دے۔“
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ امام سارے مقتدیوں کی نمازوں کو اپنی نماز کے ضمن میں لئے ہوتا ہے اور ظاہر ہے۔ کہ اعلٰی شئے ادنٰی کو اپنے ضمن میں لے سکتی ہے نہ کہ ادنٰی شئے اعلٰی کو فرض نفل کو اپنے اندر لے سکتا ہے ، کہ نفل سے اعلٰی ہے ، نفل فرض کو اپنے ضمن میں نہیں لے سکتی کہ فرض سے ادنٰی ہے ایسے ہی ہر فرض نماز اپنے مثل فرض کو اپنے ضمن میں لے سکتی ہے۔ نہ کہ دوسرے فرض کو لہذا اگر امام نماز عصر پڑھ رہا ہو تو اس کے پیچھے ظہر کی قضاء نہیں پڑھی جا سکتی کہ نماز عصر نماز ظہر کو اپنے ضمن میں نہیں لے سکتی کہ یہ دونوں نمازیں علیحدہ ہیں ۔
 حدیث نمبر5: امام احمد نے حضرت سلیم سلمٰی سے روایت کی۔ انہ اتی النبی صلی اللہ علیہ وسلم فقال یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان معاذ ابن جبل یاتینا بعد ما ننام ونکون فی اعمالنا بالنھار فینادی بالصلوٰۃ فنخرج بالصلوٰہ الیہ فیطول علینا فقال لہ علیہ السلام یا معاذ لا تکن فتانا اما ان نصلی معنی و اما ان تخفف علٰی نومک۔ “ حضرت سلیم حضور کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کی یارسول اللہ حضرت معاذ ابن جبل ہمارے پاس ہمارے سو جانے کے بعد آتے ہیں ، ہم لوگ دن میں اپنے کاروبار میں میں مشغول رہتے ہیں ۔ پھر نماز کی اذان دیتے ہیں ۔ ہم نکل کر ان کے پاس آتے ہیں وہ نماز بہت دراز پڑھاتے ہیں تو ان سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اے معاذ! فتنہ کا باعث نہ بنو تو میرے ساتھ نماز پڑھ لیا کرو یا اپنی قوم کو ہلکی نماز پڑھایا کرو۔“
خیال رہے کہ حضرت معاذ ابن جبل نماز عشاء حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے پڑھ کر اپنی قوم میں پہنچ کر انہیں پڑھاتے اور دراز پڑھاتے تھے، جس کی شکایت بارگاہ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں ہوئی ۔ جس کا واقعہ یہاں ذکر ہوا۔
معلوا ہوا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت معاذ ابن جبل کو اس کی اجازت نہ دی کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھ کر اپنی قوم کو پڑھائیں ۔ کیونکہ نفل والے پیچھے فرض نماز جائز نہیں ۔ بلکہ فرمایا کہ یا میرے پیچھے پڑھو، تو قوم کو نہ پڑھاؤ۔ قوم کو پڑھاؤ تو میرے پیچھے نہ پڑھو۔ 

حدیث نمبر6: امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ نے حضرت سے انہوں نے حضرت ابراہیم نخعی سے حدیث روایت کی۔ قال اذا دخلت فی صلوٰہ القوم وانت لا تنوی صلوٰتھم لا تجزک وان صلی الامام صلوٰتہ و نوی الذی خلفہ غیرھا اجزات الامام ولم تجزھم رواہ الامام محمد فی الاٰثار۔ “ فرماتے ہیں ، کہ جب تم قوم کی نماز میں شامل ہو اور تم ان کی نماز کی نیت نہ کرو ۔ تو تمھیں نہ نماز کافی نہیں اور اگر امام ایک نماز پڑھے اور پیچھے والا مقتدی دوسری نماز کی نیت کرے تو امام کی نماز ہو جائے گی پیچھے والے کی نہ ہوگی۔“
اس سے معلوم ہوا کہ علماء ملت کا بھی یہ ہی مسلک ہے کہ نفل والے کے پیچھے فرض نماز نہیں پڑھی جا سکتی۔ ایسے ہی ایک فرض کے پیچھے دوسرا فرض ادا نہین ہو سکتا۔
 عقل کا تقاضا بھی یہ ہے کہ نفل والے کے پیچھے فرض ادا نہ ہوا، کیونکہ امام پیشوا ہے مقتدی اس کا تابعدار امام کی نماز اصل ہے مقتدی کی نماز اس پر متفرع، اس لئے امام کے سہو سے مقتدی پر سجدہ سہو واجب ہو جاتا ہے۔
لیکن مقتدی کے سہو سے نہ امام پع سجدہ سہو واجب نہ خود اس مقتدی پر امام کی قرات مقتدی کیلئے کافی ہے۔ مگر مقتدی کی قران امام کیلئے کافی نہیں۔ حنفیوں کے نزدیک تو مطلقا وہابیوں کے نزدیک سورہ فاتحہ کے سوا میں اگر امام بے وضو نماز پڑھا دے تو مقتدی کی نماز بھی نہ ہوگی لیکن اگر مقتدی بے وضو نماز پرھ لے تو امام کی نماز درست ہو گی۔ امام سجدہ کی آیت آیتہ تلاوت کرے تو مقتدی پر سجدہ تلاوت واجب ہے مقتدی سنے یا نہ سنے ۔ لیکن اگر مقتدی امام کے پیچھے سجدہ کی آیت تلاوت کرے، تو نہ امام پر سجدہ تلاوت واجب نہ خود اس مقتدی پر۔ اگر امام مقیم ہو اور مقتدی مسافر تو مقتدی کو پوری نماز پڑھنی پڑے گا۔ لیکن اگر امام مسافر ہو اور مقتدی مقیم تو امام پوری نماز نہ پڑھے گا۔ بلکہ قصر کرے گا۔ اس قسم کے بہت مسائل ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ خود مقتدی اور اس کی نماز تابع ہے امام اور امام کی نماز اصل و متبوع ہے متبوع تابع سے یا تو برابر ہو یا اعلٰی اور نفل نماز ، فرض نماز سے درجہ کم ہے۔ تو چاہیئے کہ نفل کے پیچھے فرض ادا نہ ہو، تاکہ اعلٰی و افضل ادنٰی کے تابع نہ ہو جاوے اسی طرح ایک فرض دوسرے فرض کے پیچھے نہیں ہو سکتے ۔ کیونکہ ایک نوع دوسرے نوع کے تابع نہیں ہو سکتی ۔ جب نماز عید پڑھانے والے امام کے پیچھے نماز فجر نہیں ہو سکتی غرضیکہ ضروری یہ ہے کہ یا تو امام و مقتدی کی نماز ایک ہو یا مقتدی کی نماز امام کی نماز سے ادنٰی ہو کہ امام فرض پڑھ رہا ہو۔

دوسری فصل اس مسئلہ پر اعتراضات و جوابات

ہم اس پر غیر وہابیوں کی وکالت میں اس کی طرف سے وہ اعتراضات بھی عرض کئے دیتے ہیں ، جو وہ کیا کرتے ہیں ، اور وہ بھی جو اب تک ان کو سوجھے بھی نہیں ہوں گے اور ان تمام کے جوابات دئے دیتے ہیں ۔
اعتراض نمبر1: عام محدثین نے حدیث روایت کی کہ معراج کی رات نماز پنجگانہ فرض ہوئیں ۔ اس کے بعد دو دن حضرت جبریل علیہ السلام نے حضور کو پانچویں نمازیں پڑھائیں پہلے دن ہر نماز اول وقت میں دوسرے دن آخر وقت میں اور پھر عرض کیا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم ان وقتوں کے درمیان ان نمازوں کت اوقات ہیں ۔ دیکھو حضور پر یہ نمازیں فرض تھیں اور حضرت جبریل علیہ السلام کیلئے نفل کیونکہ نماز پنجگانہ فرشتوں پر فرض نہیں مگر اس کے باوجود جبریل علیہ السلام امام ہیں اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم مقتدی معلوم ہوا کہ نفل کے پیچھے فرض نماز درست ہے بلکہ اسلام میں پہلی نماز ایسی ہی ہوئی ۔ یعنی نفل کے پیچھے فرض اور فعل سنت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم بھی ہے اور سنت جبریل علیہ السلام بھی۔ جواب: اس کے دو جواب ہیں ایک یہ بتاؤ جبریل علیہ السلام یہ نمازیں پڑھانے رب کے حکم سے آئے تھے یا خود اپنی طرف سے آگئے بغیر حکم الہٰی۔ دوسری بات تو باطل ہے کیونکہ حضرت جبریل علیہ السلام بغیر حکم الہٰی کبھی نہیں آتے ۔۔ رب تعالٰی فرماتا ہے۔ وما نتنزل الا بامر ربک ۔ “ ہم رب کے حکم کے بغیر نہیں اترتے۔“
لہذا ماننا پڑے گا۔ کہ رب تعالٰی کے حکم سے آئے۔ جب حضرت جبریل کو رب نے ان نمازوں کا حکم دیا تو ان پر فرض ہو گئیں ۔ رب کا حکم ہی فرض بنانے والی چیز ہے۔ لہذا ان نمازوں میں نفل کے پیچھے فرض نہ پڑھے گئے۔
دوسرے یہ کہ ان دونوں میں نہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر یہ نمازیں فرض تھیں نہ صحابہ پر کیونکہ اگرچہ معراج کی رات میں نمازیں فرض کر دی گئیں ۔ لیکن ابھی ان کا طریقہ اور وقت کی تعلین نہ دی گئی قانون تشریح سے پہلے واجب العمل نہیں ہوتا ۔ اس لئے تمام مسلمانوں نے نہ تو حضرت جبریل علیہ السلام کے پیچھے یہ نمازیں پڑھیں نہ ان دونوں کی نمازیں قضا کیں ۔ لہذا حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت جبریل علیہ السلام کے پیچھے نفل پڑھے الحمد للہ کہ تمھارا اعتراض جڑ سے اکھڑ گیا۔

اعتراض نمبر 2: مسلم و بخاری نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔ قال کان معاذ ابن جبل یصلی مع النبی صلی اللہ علیہ وسلم ثم یاتی قومہ فیصلی بھم ۔ 
“ فرماتے ہیں کہ حضرت معاذ ابن جبل حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھتے تھے۔ پھر اپنی قوم میں آتے اور انہیں نماز پڑھاتے تھے۔“
دیکھو حضرت معاذ عشاء کے فرض حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے پڑھ لیتے تھے پھر اپنی قوم میں آکر پڑھاتے تھے آپ کی نماز نفل تھی اور سارے مقتدیوں کی نماز فرض ۔ معلوم ہوا کہ نفل والے کے پیچھے فرض پڑھنا سنت صحابہ ہے۔ 

جواب: اس اعتراض کے چند جواب ہیں ۔ ایک یہ کہ ہو سکتا ہے کہ حضرت معاذ ابن جبل حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نفل پڑھتے ہوں اور قوم کے ساتھ فرض ادا کرتے ہوں حضرت معاذ نے یہ کہیں نہیں فرمایا کہ میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے فرض پڑھ لیا کرتا ہوں اور مقتدیوں کے آگے نفل کی نیت کرتا ہوں لہذا آپ کیلئے یہ حدیث بالکل بے فائدہ ہے ۔
دوسرے یہ کہ اس حدیث میں یہ نہیں آیا کہ حضرت معاذ نے یہ کام حضور کی اجازت سے کیا کہ انہیں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اجازت دی ہو کہ فرض میرے پیچھے پڑھ لیا کرو اور نفل مقتدیوں کے ساتھ یہ حضرت معاذ رضی اللہ عنہ کا اجتہاد تھا، جو کہ واقعہ میں درست نہ تھا ۔ بار ہا صحابہ کرام سے اجتہادی غلطی ہوئی۔
تیسرے یہ کہ ہم پہلی فصل میں حدیث پیش کر چکے ہیں ، کہ جب حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں حضرت معاذ کے اس عمل کی اطلاع دی گئی ، تو حضور نے انہیں اس سے منع فرما دیا اور حکم دیا کہ یا تو میرے ساتھ نماز پڑھا کرو یا مقتدیوں کو ہلکی نماز پڑھایا کرو، معلوم ہوا کہ حضرت معاذ کا یہ اجتہاد سنت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف ہونے کی وجہ سے ناقابل عمل ہے۔ 

اعتراض نمبر 3: بیہقی اور بخاری نے انہی حضرت جابر سے حضرت معاذ کا یہ ہی واقعہ روایت کیا۔ اس کے الفاظ یہ ہیں ۔ 
قال کان معاذ یصلی مع النبی صلی اللہ علیہ وسلم العشاء ثم یرجع الٰی قومہ فیصلی بھم العشاء وھی لہ نافلۃ ۔ “ فرماتے ہیں کہ حضرت معاذ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز عشاء پڑھ لیتے تھے۔ پھر اپنی قوم کی طرف لوٹتے تھے تو انہیں عشاء پڑھاتے تھے یہ نماز ان کی نفل ہوتی تھی۔“
اس حدیث سے صاف معلوم ہوا کہ حضرت معاذ ابن جبل حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نفل نہ پڑھتے تھے۔ بلکہ فرض ہی پڑھتے تھے اور مقتدیوں کے آگے نفل ادا کرتے تھے ۔ لہذا یہ نہیں کہا جا سکتا کہ آپ حضور کے پیچھے نفل اور مقتدیوں کے ساتھ فرض پڑھتے تھے۔
 جواب: آپ کی یہ حدیث حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے منقول ہے وہ حضرت کا یہ واقعہ نقل کر کے اپنے اندازے اور قیاس سے فرماتے ہیں،کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ فرض پڑھتے تھے، اس میں یہ نہیں کہ حضرت معاذ نے اپنی نیت و ارادے کا پتہ دیا ہو ۔ دوسرے کی نیت کے متعلق اس سے بغیر پوچھے ، یقین نہیں کہا جا سکتا اور نہ اس میں یہ ہے کہ انہیں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی اجازت دی۔ لہذا یہ حدیث کسی طرح آپ کی دلیل نہیں بن سکتی۔
اعتراض نمبر4: بخاری شریف نے حضرت عمرو ابن سلمہ سے ایک طویل حدیث روایت کی جس میں وہ فرماتے ہیں کہ ہماری قوم ایک گھاٹ پر رہتی تھی۔ جہاں سے قافلے گزرا کرتے تھے۔ میں حجازی قافلوں سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حالات اور قرآنی آیات پوچھتا رہتا تھا۔ فتح مکہ کے بعد میرے والد مدینہ منورہ حاضر ہو کر اپنی قوم کی طرف سے اسلام لائے وہاں سے نماز کے احکام معلوم کئے ان سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اذان کوئی دے دیا کرے مگرنماز وہ پڑھائے جسے زیادہ قرآن کریم یاد ہو۔ جب واپس ہوئے تو انہیں پتہ لگا کہ، کہ مجھے قرآن کریم سب سے زیادہ یاد تھا ۔ مجھے امام بنا دیا ، اس وقت میری عمر چھ سال تھی، میں قوم جو نماز پڑھاتا تھا۔ حدیث کے آخری الفاظ یہ ہیں ۔ فکانت علی بردۃ کنت اذا سجدت قلصت عنی فقالت امراءۃ من الحی الا تغطون عنا است قارئکم فاشتروا فقطعوا لی قمیصا ۔ (مشکوٰۃ باب امامہ) 
“ مجھ پر ایک چادر ہوتی تھی ، کہ جب میں سجدہ کرتا تو کھل جاتی تو قبیلے کی ایک عورت نے کہا کہ اپنے قاری صاحب کے چوتڑ کیوں نہیں ڈھکتے تو لوگوں نے میرے لئے کپڑا خرید کر قمیص سی دی۔“
دیکھو عمرو ابن سلمہ صحابہ ہیں ، اور تمام صحابہ ان کے پیچھے نماز فرض پڑھتے ہیں ، عمرو ابن سملہ رضی اللہ عنہ کی عمر شریف چھ سال ہے ان پر کوئی نماز فرض نہیں بچے کی نفل بھی بہت ادنٰی ہوتی ہے لیکن جوان بڈھے ان کے پیچھے فرض ادا کرتے ہیں معلوم ہوا کہ نفل والے کے پیچھے فرض ادا ہو جاتے ہیں ۔
 جواب: اس کے وہ ہے جواب ہیں جو اعتراض نمبر 2 کے ماتحت گزرے ہیں ان کا یہ عمل اپنی رائے سے تھا نہ کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمانے سے چونکہ یہ حضرات تازہ اسلام لائے تھے ۔ احکام شرعی کی خبر نہ تھی بے خبری میں ایسا کیا ۔ اگر آپ اس حدیث سے یہ مسئلہ ثابت کرتے ہو تو یہ بھی مان لو کہ ننگے ز
امام کے پیچھے بھی نماز جائز ہے۔ کیونکہ عمرو ابن سلمہ خود فرماتے ہیں کہ میرا کپڑا اتنا چھوٹا تھا ، کہ سجدہ میں چادر ہٹ جاتی اور چوتڑ ننگے ہو جاتے تھے۔ اس کے باوجود یہ حضرات نمازیں پڑھتے رہے، کسی نے نماز نہ لوٹائی، کیوں مسائل شرعیہ سے بے خبری کی وجہ سے افسوس کہ آپ حضرات آنکھ بند کر کے حدیث پڑھتے ہیں۔
ان تمام گفتگو سے معلوم ہوا کہ اس مسئلہ کے متعلق وہابیوں کے پاس مرفوع حدیث موجود نہیں نہ حدیث ولی نہ فعلی یوں ہی چند شبہات کی بنا پر اس مسئلہ کے پیچھے پڑے ہوئے ہیں ۔ اور امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ پر محض عداوت سے تبرا کرتے اور انکی جناب میں گستاخیاں گالی گلوچ بکتے ہیں ۔
__________________

Wednesday, January 6, 2010

شرک کی حقیقت

اَلحَمدُ لِلہِ رَبِ العَالَمِینَ وَ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلٰی سَیِّدِ المُرسَلِینَ اَمَّا بَعدُ فَاَعُوذُ بِاللہِ مِنَ الشَیطٰنِ الرَّجِیمِؕ بِسمِ اللہِ الرَّحمٰنِ الرَّحِیمِؕ دُرُود کی فضیلت سرکارِ مدینہ ﷺ کا ارشادِ پاک ہے۔ اللہ عزوجل کی خاطر آپس میں محبت رکھنے والے جب باہم ملیں اور مصافحہ کریں اور نبی ﷺ پر دُرُود بھیجیں تو اُن کے جدا ہونے سے پہلے دونوں کے اگلے پچھلے گناہ بخش دئیے جاتے ہیں۔ بحوالہ، مسند ابی یعلٰی ، مسند انس بن مالک ، ج ۳ ، ص۹۵ شرک کی تعریف شرک کا معنیٰ ہے اللہ عزوجل کے سوا کسی کو واجبُ الوجود یا مستحق ِ عبادت جاننا یعنی اُلُوہیت میں دوسرے کو شریک کرنا ۔ بہار شریعت ، حصہ ۱ ، ص ۹۶ واجبُ الوجود ایسی ذات کو کہتے ہیں جس کا وجود ضروری اور عدم ہے یعنی ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گی ، جس کو کبھی فنا نہیں ، کسی نے اس کو پیدا نہیں کیا اسی نے سب کو پیدا کیا ہے۔ جو خود اپنے آپ سے موجود ہے اور یہ صرف اللہ عزوجل کی ذات ہے۔ ہمارا اسلام ، حصہ سِوُم، ص ۹۵ شرک کی اقسام شرک فی الذات ۔ شرک فی العبادات ۔ شرک فی الصفات شرک فی الذات۔ اللہ عزوجل کے سوا کسی کو ازلی ابدی مستقل غیر محتاج تسلیم کرنا۔ شرک فی العبادات۔ کسی کو ازلی ابدی سمجھ کر اُس کی بندگی کرنا۔ شرک فی الصفات۔ کسی غیر اللہ میں اللہ جیسی صفتِ ذاتی و ازلی و ابدی تسلیم کرنا۔ یہ بات یاد رکھنا ضروری ہے کہ ایک ہوتی ہے عبادت اور ایک ہوتی ہے عبادت ۔ کسی کی تعظیم کرنا شرک نہیں مثلاً والدین کو آتا دیکھ کر تعظیماً اُٹھنا شرک نہیں ہے ۔ یا کسی بزرگ کو آتا دیکھ کر اُٹھنا شرک نہیں ہے۔ بعض کم فہم لوگ تعظیم کو بھی شرک ٹھہراتے پھرتے ہیں مگر خود اپنے استاذ کو آتا دیکھ کر اُٹھ کر کھڑے بھی ہو جاتے ہیں اور اُن کے آگے جھکتے بھی نظر آتے ہیں۔ اگر اِن کی بات مان ہی لی جائے کے تعظیم شرک ہے تو اللہ عزوجل نے قرآن میں تعظیم کا حکم کیوں دیا اللہ عزوجل ارشاد فرماتا ہے۔ وَاٰمَنۡتُمۡ بِرُسُلِیۡ وَعَزَّرْتُمُوۡہُمْ سورہ مائدہ ، آیت ۱۲ ترجمہ ۔ میرے رسولوں پر ایمان لاؤ اور ان کی تعظیم کرو فَالَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا بِہٖ وَعَزَّرُوۡہُ وَنَصَرُوۡہُ وَاتَّبَعُوا النُّوۡرَ الَّذِیۡۤ اُنۡزِلَ مَعَہٗۤ ۙ اُولٰٓئِکَ ہُمُ الْمُفْلِحُوۡنَ سورہ الاعراف ، آیت ۱۵۷ ترجمہ ۔ وہ جو اس پر ایمان لائیں اور اس کی تعظیم کریں اور اسے مدد دیں اور اس نور کی پیروی کریں جو اس کے ساتھ اُترا وہی بامراد ہوئے وَمَنۡ یُّعَظِّمْ حُرُمٰتِ اللہِ فَہُوَ خَیۡرٌ لَّہٗ عِنۡدَ رَبِّہٖ ؕ سورہ حج ، آیت ۳۰ ترجمہ ۔ اور جو اللّٰہ کی حرمتوں کی تعظیم کرے تو وہ اس کے لئے اس کے رب کے یہاں بھلا ہے وَ مَنۡ یُّعَظِّمْ شَعَآئِرَ اللہِ فَاِنَّہَا مِنۡ تَقْوَی الْقُلُوۡبِ سورہ حج ، آیت ۳۲ ترجمہ ۔ اور جو اللّٰہ کے نشانوں کی تعظیم کرے تو یہ دلوں کی پرہیزگاری سے ہے اس کے علاوہ بھی اللہ تعالٰی نے کئی مقامات پر تعظیم کا حکم فرمایا ہے اگر تعظیم کرنا شرک ہوتا تو اللہ تعالٰی قرآن میں تعظیم کا حکم کیوں ارشاد فرماتا؟ یہی کم فہم لوگ شرک فی الصفات کو آڑ بنا کر اپنے کم فہمی کا اعلان کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ دیکھو اللہ کے سوا کوئی نہیں دیتا اس کے سوا کسی سے مانگنا شرک ہے۔ اللہ کے علاوہ کسی کو حاجت روا ماننا شرک ہے اللہ کے سوا کسی سے مدد مانگنا شرک ہے۔ تو یہ بات ذہن نشین کر لیجئے کہ اس طرح ہر کسی کو مشرک کہتے پھرنا خود ایمان سے پھرنے کی دلیل ہے۔ اگر کوئی اللہ کے علاوہ کسی کو بالذات مدد کرنے والا تسلیم کرتا ہے تو وہ بلا شبہ کافر ہے مگر یہ نہیں کہ اب کسی سے مدد مانگ ہی نہیں سکتے یہ بلکل غلط ہے۔ جیسے حضور داتا علی ہجویری رحمت اللہ علیہ کو داتا کہا جائے تو دشمنان اسلام اس کو کفر و شرک کہنا شروع کر دیتے ہیں کہتے ہیں داتا تو اللہ ہے کسی بندے کو داتا کہنا کفر ہے تو سنو میرا رب عزوجل ارشاد فرماتا ہے۔ اِنَّ اللہَ ہُوَ السَّمِیۡعُ الْبَصِیۡرُ سورہ مؤمن ، آیت ۲۰ ترجمہ ۔ بیشک اللّٰہ ہی سنتا دیکھتا ہے۔ اِنَّا خَلَقْنَا الْاِنۡسَانَ مِنۡ نُّطْفَۃٍ اَمْشَاجٍ ٭ۖ نَّبْتَلِیۡہِ فَجَعَلْنٰہُ سَمِیۡعًۢا بَصِیۡرًا سورہ دہر ، آیت ۲ ترجمہ ۔ بے شک ہم نے آدمی کو پیدا کیا ملی ہوئی منی سے کہ وہ اسے جا نچیں تو اسے سنتا دیکھتا کردیا یہاں دیکھو اللہ عزوجل نے قرآن میں اپنے لئے سمیع اور بصیر کا لفظ استعمال فرمایا اور آدمی کیلئے بھی سمیع اور بصیر کا لفظ استعمال فرمایا ہے یقیناً سمجھ والوں کی سمجھ میں یہ بات آ گئی ہو گی کہ لفظ ایک جیسے آ سکتے ہیں مگر معنیٰ میں برابری نہیں آ سکتی ۔ اللہ جب دیتا ہے تو کسی سے لے کر نہیں دیتا لیکن جب کسی ولی اللہ سے مانگا جائے تو خود سے نہیں دیتے بلکہ وہ اللہ سے لے کر دیتے ہیں اللہ کی صفت ذاتی ہے اور مخلوق میں ہر کسی کی صفت عطائی ہے۔ اگر اب کوئی کہے کہ داتا صاحب تو وہ کافر نہیں ہے ۔ اللہ بھی داتا ہے لاہور والے بھی داتا ہیں لفظوں میں برابری ہے مگر معنیٰ میں نہیں ہو سکتے ۔ کہ اللہ کو جب داتا کہا جاتا ہے تو وہ اس کی بالذات صفت ہے اور جب داتا علی ہجویری رحمت اللہ علیہ کو داتا کہا جائے تو اُن کی یہ صفت عطائی ہے۔ میرا رب عزوجل فرماتا ہے۔ اِنَّ اللہَ بِالنَّاسِ لَرَءُوۡفٌ رَّحِیۡمٌ سورہ البقرہ ، آیت ۱۴۲ ترجمہ ۔ بیشک اللّٰہ آدمیوں پر بہت مہربان مہر والا ہے لَقَدْ جَآءَکُمْ رَسُوۡلٌ مِّنْ اَنۡفُسِکُمْ عَزِیۡزٌ عَلَیۡہِ مَا عَنِتُّمْ حَرِیۡصٌ عَلَیۡکُمۡ بِالْمُؤْمِنِیۡنَ رَءُوۡفٌ رَّحِیۡمٌ سورہ توبہ ، آیت ۱۲۸ ترجمہ ۔ بیشک تمہارے پاس تشریف لائے تم میں سے وہ رسول جن پر تمہارا مشقت میں پڑنا گِراں ہے تمہاری بھلائی کے نہایت چاہنے والے مسلمانوں پر کمال مہربان مہربان۔ اس آیت میں دیکھو اللہ عزوجل نے اپنے لیے بھی رؤف و رحیم کے الفاظ استعمال فرمائے اور اپنی نبی ﷺ کے لیے بھی یہی الفاظ استعمال فرمائے۔ مزید دیکھو میرا رب تعالیٰ فرماتا ہے۔ اَنۡتَ مَوْلٰىنَا فَانۡصُرْنَا عَلَی الْقَوْمِ الْکٰفِرِیۡنَ سورہ البقرہ ، آیت ۲۸۶ ترجمہ ۔ تُو ہمارا مولیٰ ہے تو کافروں پر ہمیں مدد دے۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ کو مولانا کہہ کر پکارا گیا ہے اور وہابی جو کہ کہتا ہے اللہ کہ سوا کوئی مولا نہیں ہے تو وہابی اپنے مولوی کو مولانا کیوں کہتے ہیں اس آیت کی رو سے اللہ کو بھی مولانا کہا گیا ہے اب چاہیے تو یہ کہ اللہ کہ سوا کسی کو مولانا نہ کہا جائے مگر یہ کہتے ہیں ۔ اللہ بھی مولانا مگر کھاتا کچھ نہیں اور وہابی بھی مولانا مگر کچھ چھوڑتا نہیں۔ قرآن پاک میں سورہ یوسف میں وہ واقعہ موجود ہے جہاں قید خانے میں حضرت یوسف علیہ السلام کے دو ساتھی آپ علیہ السلام سے اپنا خواب بیان کرتے ہیں تو آپ نے جوتعبیر ارشاد فرمائی اُس کو اللہ عزوجل نے قرآن میں ارشاد فرمایا۔ یٰصَاحِبَیِ السِّجْنِ اَمَّاۤ اَحَدُکُمَا فَیَسْقِیۡ رَبَّہٗ خَمْرًا سورہ یوسف ، آیت ۴۱ ترجمہ۔ اے قید خانہ کے دونوں ساتھیو تم میں ایک تو اپنے رب (بادشاہ)کو شراب پلائے گا اب بتاؤ کہ بادشاہ کو رب کہا گیا ہے۔ اب کیا کہو گے۔ رب کا معنٰی ہے پالنے والا ۔ اگر لفظِ رب کی نسبت اللہ کی طرف کی جائے تو اس کا معنٰی ہوتا ہے رب کی عطا سے پالنے والا ۔ اور اگر اس کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف کی جائے تو اس کا معنٰی ہوتا ہے حقیقی پالنے والا۔ عقلمنداں را اشارہ کافی است دعاؤں کا طالب فقیرِ اہلسنت ابوالغوث عطاری غفر لہ الباری abu_ul_ghouse@yahoo.com abu_ul_ghouse@hotmail.com
Keep your friends updated— even when you're not signed in.

Monday, December 14, 2009

عاشورہ کا روزہ

اَلحَمدُ لِلہ رَبِ العٰلَمِینَ وَالصَّلوٰۃُ وَالسَّلَامُ عَلٰی سَیِّدِ المُرسَلِینَ اَمَّا بَعدُ فَاَعُوذُ بِاللہ مِنَ الشَیطٰنِ الرَّجِیمِ بِسمِ اللہ الرَّحمٰنِ الرَّحِیمِ حضرت سیدنا ابع درداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ شفیع المذنبین رحمۃ للعٰلمین ﷺ کا ارشاد دلنشین ہے۔ مَن صَلّٰی علیَّ حین یُصبِحُ عَشرا وَ حِینَ یُمسی عشرا اَدرکتہ شَفَاعَتِی یَومَ القِیَامَۃِ ۔ بحوالہ مجمع الزوائد ج ۱۰ ص۱۶۳ جس نے مجھے پر صبح و شام دس دس مرتبہ درود پاک پڑھا وہ قیامت کے دن میری شفاعت کو پائے گا۔ فضائل محرم الحرام اسلامی سال ماہ محرم الحرام سے شروع ہوتا ہے۔ یہ بہت ہی عظمت و برکت والا مہینہ ہے جو ہمیں صبر و ایثار کا درس ہے۔ اس ماہِ مبارک میں عبادت کرنے اور روزہ رکھنے کے بارے میں متعدد فضائل وارد ہوئے ہیں نیز اسی ماہ یومِ عاشورہ جو اپنی خصوصیات میں ممتاز ہے۔ حضرت سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے حضور اکرم، نور مجسم، شاہ بنی آدم ﷺ فرماتے ہیں رمضان کے بعد محرم کا روزہ افضل ہے اور فرض کے بعد افضل نماز رات کے نوافل ہیں۔ صحیح مسلم ،ص۵۹۱ طبیبوں کے طبیب، اللہ کے حبیب ﷺ کا فرمان ہے محرم کے ہر دن کا روزہ ایک مہینہ کے روزوں کے برابر ہے۔ عاشورہ کو واقع ہونے والے ۲۵ اھم واقعات دس محرم الحرام عاشورہ کے روز حضرت سیدنا آدم علیہ السلام کی توبہ قبول ہوئی۔ اسی دن پیدا کیا گیا۔ اسی دن انہیں جنت میں داخل کیا گیا۔ اسی دن عرش ۔کرسی۔آسمان ۔ زمین ۔سورج۔چاند ۔ستارے۔ اور جنت پیدا کیے گیے۔ اسی دن حضرت سیّدنا ابراھیم خلیل اللہ علیہ السلام پیدا ہوئے، اسی دن انہیں آگ سے نجات ملی، اسی دن حضرت موسیٰ کلیم اللہ علیہ السلام اور آپ کی اُمت کو نجات ملی اور فرعون اپنی قوم سمیت غرق ہوا، اسی دن حضرت عیسیٰ روح اللہ علیہ السلام پیدا کیے گئے۔ اسی دن آسمانوں کی طرف اُٹھایا گیا۔اسی دن حضرت سیّدنا نوح علیہ السلام کی کشتی کوہِ جُودی پر ٹھہری۔ اسی دن حضرت سلیمان علیہ السلام کو ملک عظیم عطا کیا گیا ۔ اسی دن حضرت سیدنا یونس علیہ السلام مچھلی کے پیٹ سے نکالے گئے۔ اسی دن حضرت سیدنا یعقوب علیہ السلام کی بینائی کا ضعف دور ہوا۔ اسی دن حضرت یوسف علیہ السلام گہرے کنویں سے نکالے گئے ۔اسی دن حضرت ایوب علیہ السلام کی تکیف رفع کی گئی آسمان سے زمین پر سب سے پہلی بارش نازل کی گئی۔ اسی دن کا روزہ اُمتوں میں مشہور تھا یہاں تک کہ یہ بھی کہا گیا کہ اس دن کا روزہ رمضان المبارک سے پہلے فرض تھا پھر منسوخ کر دیا گیا۔بحوالہ مکاشفۃ القلوب ،ص ۶۵۰۔ امام الہمام، امام عالیمقام، امام عرش مقام، امام تشنہ کام سیّدنا امام حسین رضی اللہ عنہ کو مع شہزادگان و رفقاء تین دن بھوکا رکھنے کے بعد اسی عاشورہ کے روز دشتِکربلا میں انتہائی سفاکی کے ساتھ شہید کیا گیا۔ حضرت سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کے نور کے پیکر تمام نبیوں کے سرور دو جہاں کے تاجور سلطانِ بحروبر ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جو شخص عاشورہ کے دن اپنے بال بچوں کے کھانے پینے میں خوب زیادہ فراخی اور کشادگی کرے گا یعنی زیادہ کھانا تیار کروا کر خوب پیٹ بھر کر کھلائے گا اللہ تعالیٰ سال بھر اس کے رزق میں وُسعت اور خیر و برکت عطا فرمائے گا۔ بحوالہ مَا ثَبَتَ مِنَاالسُّنۃِ ، شھر المحرم ، ص۱۷ سارا سال امراض سے حفاظت مفسر شہیر حکیم الامت حضرت مفتی احمد یار خان نعمیی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ محرم کی نویں اور دسویں کو روزہ رکھے تو بہت ثواب پائے گا۔ بال بچوں کیلئے دسویں محرم کیلئے اچھے اچھے کھانے پکائے تو انشاءاللہ تعالٰی سال بھر گھر میں برکت رہے گی۔ بہتر یہ ہے کہ کِھچڑا پکا کر حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کی فاتحہ کرے بہت مجرّب یعنی مؤثر و آزمودہ ہے۔ اسی تاریخ یعنی ۱۰ محرم الحرام کو غسل کرے تو تمام سال انشاءاللہ تعالٰی بیماریوں سے اَمن میں رہے گا کیونکہ اس دن آب زمزم تمام پانیوں میں پہنچتا ہے۔ بحوالہ روح البیان، ج۴ ، ص ۱۳۲ سرور کائنات شاہ موجودات ﷺ نے ارشاد فرمایا جو شخص یومِ عاشورہ اِثمد سرمہ آنکھوں میں لگائے تو اس کی آنکھون میں لگائے تو اس کی آنکھیں کبھی بھی نہ دُکھیں گی۔ بحوالہ شعب الایمان ،ج ۳ ،ص ۳۶۷ عاشورہ کی خیرات کی برکات عاشورہ کے روز ملک رے میں قاضی صاحب کے پاس ایک سائل آکر عرض گزار ہوا میں ایک بہت ہی ناداروعیال ہوں آپ کو یوم عاشورہ کا واسطہ میرے لیے دو سیر روٹی ، پانچ سیر گوشت اور دس درہم کا انتظام فرما دیجئے، اللہ تعالٰی آپ کی عزت میں برکت دے۔ قاضی صاحب نے کہا ظہر کے بعد آنا ۔ فقیر ظہر کے بعد آیا تو کہا عصر کے بعد آنا۔ وہ عصر کے بعد آیا تب بھی کچھ نہیں دیا خالی ہاتھ ہی ٹرخا دیا فقیر کا دل ٹوٹ گیا ۔ وہ رنجیدہ رنجیدہ ایک نصرانی کے پاس پہنچا اور اس سے کہا آج کے مقدس دن کے صدقے مجھے کچھ دیدو۔ اس نے پوچھا آج کون سا دن ہے؟ جواب دیا آج یوم عاشورہ ہے۔ یہ کہنے کے بعد عاشورہ کے کچھ فضائل بیان کیے۔ اس نے سن کر کہا آپ نے بہت عظمت والے دن کا واسطہ دیا ہے اپنی ضرورت بیان کیجئے۔ سائل نے اس سے بھی وہی کچھ مانگا۔ اس آدمی نے دس بوریاں گیہوں، سو سیر گوشت اور بیس دِرہم پیش کرتے ہوئے کہا یہ آپ کے اہل و عیال کے لیے زندگی بھر ہر ماہ اس دن کی فضیلت و حرمت کے صدقے مقرّر ہے۔ رات کو قاضی صاحب نے یہ خواب دیکھا کہ کوئی کہہ رہا ہے نظر اُٹھا کر دیکھ جب اس نے نظر اُٹھا کر دیکھا تو عالیشان محل نظر آئے، ایک چاندی اور سونے کی اینٹوں کا اور دوسرا سرخ یاقوت کا تھا قاضی نے پوچھا یہ کس کے ہیں جواب ملا اگر تم سائل کی ضرورت پوری کر دیتے تو تمہیں ملتے مگر چونکہ تم نے اسے دھکے کھلانے کے باوجوداسے کچھ نہیں دیا اس لیے اب یہ دونوں محل فلاں نصرانی کیلئے ہیں قاضی جب بیدار ہوا تو بہت پریشان ہوا۔ صبح ہوئی تو نصرانی کے پاس گئے اور اس سے دریافت کیا کے کل تم نے کون سی نیکی کی ہے۔ اس نے پوچھا کے آپ کو کیسے معلوم ہوا؟ قاضٰی صاحب نے اپنا خواب بیان کیا، اور پیشکش کی کہ مجھے اپنی کل کی نیکی ایک لاکھ درہم کے بدلے بیچ دو۔ نصرانی نے کہا میں روئے زمین کی ساری دولت لے کر بھی اسے فروخت نہیں کروں گا ، ربُّ العزّت جلاجلالہ کی رحمت و عنائت بہت خوب ہے۔ لیجئے میں مسلمان ہوتا ہوں یہ کہہ کر اس اس نے پڑھا اَشھَدُان لّا اِلٰہَ اِلّااللہُ وَ اَشھَدُ اَنَّ مُحَمَّدا عبدُہ وَرَسُولُہ میں گواہی دیتا ہوں اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں اور گواہی دیتا ہوں محمد اس کے خاص بندے ہیں اور اس کے رسول ہیں بحوالہ روض الریاحین ، ص ۱۵۲ شب عاشورہ کی نفل نماز عاشورہ کی رات میں چار رکعت نماز نفل اس ترکیب سے پڑھے کہ ہر رکعت میں الحمد کے بعد آیۃ الکرسی ایک بار اور سورہ اخلاص تین تین بار پڑھے اور نماز سے فارغ ہو کر ایک سو مرتبہ سورہ اخلاص پڑھے۔ گناہوں سے پاک ہو گا اور بہشت میں بے انتہا نعمتیں ملیں گی۔ بحوالہ جنتی زیور ، ص ۱۵۷ عاشورہ کے روزے کے ۴ فضائل حضرت سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کا ارشاد گرامی ہے کہ رسول اللہ جب مدینہ میں تشریف لائے ، یہود کو عاشورہ کے دن روزہ دار پایا تو ارشادفرمایا ، یہ کیا دن ہے کہ تم اس میں روزہ رکھتے ہو۔ عرض کی گئی یہ عظمت والا دن ہے کہ اسمیں موسیٰ علیہ السلام اور ان کی قوم کو اللہ تعالٰی نے نجات دی اور فرعون اور اس کی قوم کو غرق کیا۔ لہٰذہ موسیٰ علیہ السلام نے اس دن بطور شکرانہ اس دن کا روزہ رکھا ، تو ہم بھی روزہ رکھتے ہیں۔ یہ سن کے آپﷺ نے ارشاد فرمایا، موسیٰ علیہ السلام کی موافقت کرنے میں بہ نسبت تمہارے زیادہ حق دار اور زیادہ قریب ہیں۔ تو سرکار ﷺ نے خود بھی روزہ رکھا اور اِس کا حکم بھی فرمایا۔ بحوالہ صحیحُ البُخاری، ج ۱، ص۶۵۶ حضرت سیّدنا عبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے سلطانِ دو جہاں، شہنشاہِ کون و مکاں، رحمت عالمیان ﷺ کو کسی دن کے روزے کو اور دن پر فضیلت دے کر جستجو فرماتے نہیں دیکھا مگر یہ کہ عاشورہ کا دن اور یہ کہ رمضان کا مہینہ۔ بحوالہ صحیحُ البُخاری، ج ۱، ص ۶۵۷ تاجدارِ رسالت ﷺ نے ارشاد فرمایا، یوم عاشورہ کا روزہ رکھو اور اس میں یہودی کی مخالفت کرو ، اس سے پہلے یا بعد میں بھی ایک دن کا روزہ رکھو۔ بحوالہ مسند امام احمد، ج ۱، ص ۵۱۸ ۔ یعنی عاشورہ کا روزہ جب بھی رکھیں تو ساتھ ہی نویں یا گیارویں محرم الحرام کا روزہ بھی رکھ لینا بہتر ہے حضرت سیدنا ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں ۔ مجھے اللہ پر گمان ہے کہ عاشورہ کا روزہ ایک سال قبل کے گناہ مٹا دیتا ہے۔بحوالہ صحیح مسلِم ، ص ۵۹۰ دعا ؤں کا طالب فقیرِ اہلسنت ابو الغوث عطاری غفرلہ الباری abu_ul_ghouse@yahoo.com

Sunday, December 6, 2009

یکم محرم الحرام کا وظیفہ

یکم محرم الحرام کا وظیفہ
786
قفل مدینہ
92

الحمد للہ رب العالمین والصلواۃ والسلام علی سید الانبیاء والمرسلین ۔

شیخ طریقت امیر اہلسنت بانئ دعوت اسلامی حضرت علامہ مولانا ابو البلال محمد الیاس عطار قادری رضوی دامت برکاتھم العالیہ اپنی تصنیف لطیف فیضان سنت کے باب فیضان بسم اللہ صفحہ 136 پر تحریر فرماتے ہیں !

یکم محرم الحرام کو بسم اللہ الرحمٰن الرحیم 130 بار لکھ کر ( یالکھوا کر ) جوکوئی اپنے پاس رکھے (یا پلاسٹک کوٹنگ کروا کر کپڑے ،ریگزین یا چمڑے میں سلوا کر پہن لے ، (دھات کی ڈبیہ میں کسی قسم کا تعویذ نہ پہنیں )
ان شاء اللہ عزوجل عمر بھر اس کو یا اس کے گھر میں کسی کو کوئی بُرائی نہ پہنچے

( شمس العارفین ص 74)٫

Saturday, December 5, 2009

زواجِ المسیار ، متعہ یا Legal Prostitution از حشام احمد سید

متعہ کے متعلق ایک مضمون نظر سے گزرا آپ کی بصارتوں کی نظر (مصنف کی ہر بات سے بلوگ کا متفق ہونا ضروری نہیں )۔ 
Tuesday, June 30, 2009

زواجِ المسیار ، متعہ یا Legal Prostitution

حشام احمد سید



پچھلے کئی صدیوں سے امت مسلمین عجیب خلفشار کا شکار ہے ۔ بہت سے معاشرتی مسائل کو سلجھانے کی بجائے یہ الجھانے پہ تلی ہوئی ہے۔ اب تک تو جماعت اہل سنت نے فقہ جعفریہ کے فتوے متعہ ( عارضی شادی ) کی خلاف ایک محاذ آرائی کر رکھی تھی ، نہ جانے کتنی کتابیں اس موضوع پہ لکھی گئیں اور علمأ کے کتنے شب و روز اسی مناظرے میں صرف ہوئے ، قرآن کی کتنی آیتوں کو کھنگالا گیا ، کتنی حدیثیں اس کے رد میں سنائی گئیں ، کتنی روایتوں سے اسے حرام قرار دیا گیا لیکن یہ کیا ہوا کہ مکہ مکرمہ میں اسلامی فقہ اکیڈمی نے اپنے ١٨ ویں اجلاس میں مختلف النوع شادی کے بارے میں فتوے جاری کئے جس میں خاص طور پہ طلاق کے ساتھ مشروط شادی ، عارضی شادی ، خفیہ شادی ، روایتی شادی ، فرینڈ شپ شادی ، سول میرج اور تجرباتی شادی شامل ہیں۔ اس اکیڈمی نے زواج المسیار یا اس جیسی دیگر شادیوں کی اجازت دی جس میں شادی کے جملہ شرائط و ضوابط پورے کئے گئے ہوں۔ اسلامی فقہ اکیڈمی رابطہ عالم اسلامی کے تحت ہے لیکن یہ ایک آزاد خود مختار اسلامی و علمی ادارہ ہے، جو امت مسلمہ کے منتخب علما و فقہا پر مشتمل ہے ۔ اس اجلاس میں ٦٠ علما و فقہا شریک تھے ۔ شادی کی شرائط جو الازہر یونیورسٹی کے علما سے ثابت ہیں وہ یہ ہیں کہ :

١۔ شادی کے لیے ولی امر اور گواہوں کی موجودگی ٢ ۔ مہر ٣۔کوئی شرعی رکاوٹ نہ ہو یعنی مسلم عورت کا نکاح غیر مسلم مرد سے نہیں ہوسکتا اسی طرح مشرکہ سے نکاح نہیں ہو سکتا ٤ ۔شادی کا اعلان ضروری نہیں ہے اسے خفیہ رکھا جا سکتا ٥ ۔اگر عورت رہائش کے حق سے دستبردار ہو جائے تو بھی ایسی شادی جائز ہے۔

زواج المسیار ایسی شادی ہے کہ جس کے تحت بیوی مکان ، نان نفقہ اور دولت کی تقسیم سے مکمل یا جزوی طور پر دستبردار ہو جاتی ہے اور اس بات پہ راضی ہوتی ہے کہ شوہر دن رات میں جب چاہے اس کے یہاں آئے جائے۔

اسلامی فقہ اکیڈمی کے اس فتوے سے زبردست اور متضاد رد عمل سامنے آیا ہے۔ کچھ مرد وزن نے فوری طور پہ اس سے استفادہ کیا اور کہنے لگے کہ کفر ٹوٹا خدا خدا کر کے، یہ شادی عارضی بھی ہو سکتی ہے اور خفیہ بھی اور مرد کو شادی کی مروجہذمہ داریوں سے بھی مبرہ کر دیتی ہے سو بہتی گنگا سے ہاتھ دھونے کا جواز فراہم کر تی ہے۔جو علما اس کے حق میں ہیں ان کا خیال یہ ہے کہ نوجوان مرد و عورت کو حرام کاری کی بجائے اس شادی کا فائدہ اٹھانا چاہیے ( یہ ایسے ہی ہے جیسے کوئی کہے کہ بسم اللہ پڑھ کر وہسکی پی جا سکتی ہے ) ، موافقت میں جو لوگ ہیں ان کی وضاحت یہ بھی ہے کہ المسیار سے معمر کنوارپن کا مسئلہ اور سیٹلائٹ چینل و دیگر فواحشات و شہوانی محرکات کی فتنہ انگیزیوں سے پیدا ہونے والی اخلاقی انحراف کا خاتمہ ہوگا۔ ( رات بھر خوب پی صبح ہوئی توبہ کر لی : رند کے رند رہے ہاتھ سے جنت نہ گئی )، یعنی بجائے اس کے کہ لوگوں کی تربیت ان معنوں میں کریں کہ اخلاق باختہ پروگرام نہ دیکھیں ور نہ پروڈیوس کریں اور غصِ بصر اور باطنی طہارت کی اہمیت کا احساس دلائیں یا معاشرے میں ایسے قوانین نافذ کریں جس سے طلاق کم سے کم ہو اور اعلانیہ و حلال شادیوں کی آسانی ہو، اس میں پیدا کی ہوئی انفرادی اور معاشرتی یا ثقافتی رکاوٹ دور ہو ۔ ان علما کو یہی نظر آیا کہ عورت و مرد کے لئے کوئی ایسی ترکیب نکال لی جائے کہ عارضی اور خفیہ طور پہ آگ کو پی جائیں یہ پانی کر کے اور اسے حلال سمجھ کے ضمیر کی ہر خلش سے بھی آزاد ہوجائیں۔ شہوانی محرکات کا جہاں تک تعلق ہے تو صلائے عام ہے یارانِ نکتہ داں کے لئے ۔

ہیجانی کیفیت طاری ہو تو فرینڈشپ ، عارضی و خفیہ شادی کر کے کسر پوری کر لیں۔ کھلے عام نہ سہی چھپا کے ہی سہی شہوانیات تو عام ہو ہی گئی نا ؟ عورتوں کو پابند کروچادر اور سر سے پیر تک نقاب میں ڈھانکے رہو لیکن انہیں اپنی نفسانی خواہشات کا ایک ذریعہ بنائے رہو ۔ چونکہ یہ جواز عورت و مرد کے لیے یکساں ہے سو یہ بھی نہیں کہا جا سکتا کہ عورت پہ ظاہراً کوئی ظلم ہو رہا ہے لیکن دیکھنے والی آنکھ یہ صاف دیکھتی ہے کہ اس کا زیادہ نقصان بھی عموماً عورتوں کو ہی ہوگا سوائے ان چند کے جن کے لئے کوئی اقتصادی یا مالی مسئلہ نہیں یا وہ جو پہلے ہی اپنی فطری شرم و حیا سے گریز کئے بیٹھی ہیں۔ ایک نقطۂ نظر یہ بھی ہے کہ اس سے عورتوں کے وقار و عزت میں مزید کمی آئے گی ۔پہلے ہی ہر معاشرے میں چاہے وہ شرق ہو کہ غرب مختلف حیلے بہانے سے مردوں نے عورتوں کو استعمال کیا ہوا ہے اور اسے اپنی حیوانیت کی
بھینٹ چڑھا دیا ہے۔ایک طرف چادر و نقاب پہنا کے لیکن اپنی پوشیدہ حرم سراؤں کو آباد کر کے تو دوسری طرف اسے آزادی اور برابری کا دلاسہ دے کر سرِعام برہنہ کر دیا ہے۔

ساری دنیا میں لے دے کے اسلام ہی وہ فکری اثاثہ ہے یا طرزِ حیات ہے جو عورتوں کی حرمت ، محافظت، عزت اور وراثت کا داعی ہے اور فطری توازن کے ساتھ مرد و عورت کے حقوق و ذمہ داریوں کی تفصیل فراہم کرتا ہے اور برابری کا ہی درجہ نہیں بلکہ بعض تعلقات و معاملات میں عورتوں کو زیادہ پر وقار بناتا ہے اور انہیں فوقیت بخشتا ہے لیکن المیہ یہ ہے کہ داعیانِ اسلام نے ایک علاقائی تہذیب ، کسی قبیلے کی مخصوص ثقافت کو اسلام بنا کر اس کی روح کو پامال کیا ہوا ہے۔

اگر یہ معاملہ اور فتویٰ صرف ایک مخصوص معاشرت و علاقے اور ملک کے شہریوں کے لئے ہے تو اسے اسلام کی ٹوپی کیوں پہنا دی گئی ہے ؟ اسے اسلام کا عمامہ کیوں باندھ دیا گیا ہے ؟ آپ کا جو جی چاہے کرتے رہیں ۔کس نے روکا ہے دورِ جاہلیہ کا رویہ اپنا لیں ؟ کچھ کا کہنا ہے کہ قرونِ اولیٰ میں بھی لوگ تجارت کے لئے کسی اور شہر جاتے تھے تو وہاں شادیاں کر لیتے تھے سو اسے اسلامی قراردیا جا سکتا ہے۔ قرون اولیٰ میں کوئی ضروری تو نہیں کہ سارے لوگ اسلام کی روح کو سمجھ پائے ہوں۔ انسانی فکر مخصوص دور میں منجمد نہیںہو ئی، یہ سیل رواں ہے اور زمانے کے تغیرات کے ساتھ منسلک ہے اور پھر ایک زمانے سے جو رسم رچی بسی ہووہ فوری طور پہ ختم بھی نہیں کی جا سکتی ، لوگ دور جاہلیہ میں لوٹنے کا کوئی نہ کوئی جواز نکال لیتے ہیں۔اگر لوگ پچاس پچاس بیویاں رکھتے تھے، یا ایک عورت کئی مردوں سے شادی کر لیا کرتی تھی ، یا لوگ قوم لوط جیسی حرکات میں مبتلا تھے یا لونڈیوں کے رکھنے کا عام رواج تھا تو ان ساری باتوں سے کیا اب ایسا کرنے کا جواز نکلتا ہے ؟ اسلام نے زیادہ سے زیادہ چار اعلانیہ شادیوں کی اجازت پورے انصاف اور ذمہ داریوں کے ساتھ دی ہے لیکن کوئی اس اجازت کو صرف دولت و ثروت کا سہارا لے کر اپنی شہوت رانی اور کثرت ازواج کا ذریعہ اس طر ح بنا لے کہ ایک وقت میں چار رکھے لیکن سیکڑوں سے ہم بستری کر کے انہیں طلاق دیتا رہے توکیایہ عمل جائز ہوگا اور اسے اسلامی قرار دیا جا سکتا ہے ؟ انسانیت سے گری ہوئی بات او رعمل کبھی اسلامی نہیں ہو سکتی۔

کچھ خواتین اور مرد یہ بھی کہتے ہیں کہ جب علمانے اس کا فتویٰ دے دیا تو ہم اس پہ اعتراض کر نے والے کون ہوتے ہیں ؟ چند علما کیا خدائی فوجدار ہیں ؟ اسلام کیا چند علما کی بے عقلی کا مرہونِ منت ہے یا کسی خاص علاقے کے لوگوں کے طرز ِ فکر کا پابند ہے۔ یہ ایک عالمی و آفاقی دین ہے۔ پورے عالم اسلام میںلوگ صرف ٦٠ علما کے پیروکار تو نہیں ؟ کیا قرآن ہر ایک کو مخاطب کر کے نہیں کہتا کہ افلا تعقلون ، افلا تدبرون ؟ کیا تم عقل سے کام نہیں لیتے ، کیا تم تدبر و غور و فکر سے کام نہیں لیتے ؟

جو لوگ یا علماصرف دور سے تماشہ دیکھتے ہیں ان کا کہنا یہ ہے کہ یہ فرینڈشپ یا عارضی یا خفیہ شادی کی اجازت کم سے کم ہم اپنی بیٹیوں کو تو نہیں دے سکتے۔ آپ کا کہا سر آنکھوں پر لیکن اس کے پیچھے کوئی خیال اور تو نہیں ؟کیوں صاحب کیابیٹے ہی ہر جگہ منہ مارتے پھریں ، کیا کسی اور کی بیٹیوں ، ماؤں ، بہنوں کی کوئی عزت نہیں ؟ کیا دوسروں کے لئے آپ کی حمیت و شرافت و وقار کاپیمانہ دوسراہے ؟ کچھ کا کہنا ہے کہ اگر مردوں کو ہر قسم کی معاشرتی ذمہ داری سے آزادی مل گئی تو یہ ایک اور فتنہ کا دروازہ کھول دے گا۔ المسیار کی موجودگی میں کون اعلانیہ شادی کی مصیبت اٹھائے گا ۔یہ سارے کا سارا نظام Legal Prostitution نظر آتا ہے۔ یہ معاملہ لگتا ہے ہمیں بھی رفتہ رفتہ مغرب زدہ بنا دے گا جہاں اب اکثر مرد اور عورت میاں بیوی کی طرح بغیر نکاح و شادی کے ساتھ رہتے ہیںاور بچے بھی ہوتے رہتے ہیں ۔

بیویاں بھی بدلتی رہتی ہیں خفیہ طور پہ اور شوہر بھی بدلتے رہتے ہیں خفیہ طور پہ ۔ وہاں کی حکومت اور معاشرت نے ان ساری باتوں کو قبول کیا ہوا ہے۔ اس کے خلاف اٹھنے والی آواز کو انسانی حقوقِ آزادی کے خلاف سمجھتے ہیں اور اس پہ گرفت کرتے ہیں ۔یہ صرف اصطلاح کا فرق ہے اگر وہ اسے انسانی حقوقِ آزادی کی بجائے حیوانی اور شیطانیحقوقِ آزادی کہا کریں تو ہمیں کوئی اعتراض نہیں۔ ویسے بھی بعض فلسفیوں اور محققین کے نزدیک انسان حیوانِ ناطق ہی تو ہے۔

انسانی معاشرے میں مرد و زن سے متعلق جو مسائل درپیش ہو تے ہیں، ان کا حل درجہ ذیل ہیں :
١۔ خواتین یامرد کنوارے ہوں۔ عمر بڑھ رہی ہو ، کوئی بر نہیں مل رہا ہو تو فرد و معاشرے کے غیر ضروری اصراف، رسوم و پابندیوں کی اصلاح کی ضرورت ہے تاکہ شادیوں میں کوئی دشواری نہ پیدا ہو۔

٢۔ معاشرے میں بیوگان کی تعداد بڑھ رہی ہو تو ان کے لئے بھی وہی کچھ کیا جانا چاہیے جو اوپر بیان ہوا ہے تاکہ انہیں بھی تحفظ فراہم ہو۔ نکاحِ بیوگان کی ترغیب دی جائے،

٣۔ معاشرے میں طلاق شدہ خواتین کی تعداد بڑھ رہی ہو تو ان کے لئے بھی وہی کیا جانا چاہیے جو اوپر بیان ہوا ہے ۔ اور ساتھ ہی ساتھ طلاق کی کثرت کو ختم کرنے کی تدبیر کرنی چاہیے۔شادی میں کفو کا خیال رکھا جائے اور مردوں و عورتوں کی باطنی اصلاح کی جائے تاکہ دونوں شادی کی حرمت ، ایک دوسرے کی عزت و احترام کا خیال محبت کے ساتھ ساتھ رکھیں۔ ایسے ماحول اور طریقۂ زندگی سے بھی گریز کرنا چاہیے جس میں شوہر اور بیوی میں ایک دوسرے سے بے زاری پیدا ہو۔ اس کے علاوہ ایسے رئیسوںاور بگڑے ہوئے لوگوں کی تربیت اور ان کے خلاف قانونی چارہ جوئی کرنی چاہیے جو عورتوں کو اپنی دولت کا سہارا لے کے یا ان کی مجبوریوں کا فائدہ اٹھا کر یا کسی اور مقصد کے لئے اپنی ہوس کی تسکین کے لئے شادی کرتے ہیں اور اسے تنگ کرتے ہیں یا طلاق دے ڈالتے ہیں۔

٤۔ عورتوں کی آبادی کی کثرت ہو تو اس کا علاج کثرتِ ازواج ہے لیکن اعلانیہ حلال شادی ہوخفیہ نہیں۔ یہ بھی قدرت کا عجیب انتظام ہے ، اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ عورتوں کی آبادی زیادہ ہوتی ہے ، مردوں کی عمر عورتوں کے مقابلے میں عموماً کم ہوتی ہے ، فرض کیجیے کہ کہیں مردوں کی آبادی زیادہ ہو بھی تو وہ کسی اور ملک یا علاقے کی کسی ٧
عورت سے اعلانیہ شادی کر سکتا ہے۔ اسلام میں اس کی بڑی گنجائش رکھی گئی ہے۔عورتیں بھی اگر دوسری یا تیسری بیوی نہیں بننا چاہتیں تو کسی بھی مسلمان مرد سے شادی کر سکتی ہیں چاہے وہ ان کے خاندان کا یا ملک کا ہو یا نہ ہو۔ اسلام مذہبِ کائنات ہے اس میں رنگ و نسل کی پیچیدگیاں نہیں ۔

بہت ساری دشواریاں گروہی ، رنگ و نسل کی متعصبانہ رویہ سے پیدا ہوتی ہیں۔کسی بیماری یا سببِ دیگر کے تحت اگر مرد یا عورت حقوق زوجیت ادا کرنے سے قاصر ہوں تو عورت اگر چاہے تو اپنی فطری شرم و حیا کو ملحوظِ خاطر رکھتے ہوئے اپنے وکیلوں کے زریعے یا قانونی طور پہ خلع لے سکتی ہے اور دوسرا نکاح کر سکتی ہے۔ ایک وقت میں اس کے دو شوہر نہیں ہو سکتے لیکن مرد کے لئے پہلی یا کسی بیوی کو طلاق دینا ضروری نہیں۔ وہ انسانی تعلقات کا لحاظ کرتے ہوئے ایسی بیوی سے مشفقانہ رویہ رکھ سکتا ہے اور اعلانیہ دوسری شادی کر سکتا ہے۔

مسائل چاہے جو بھی ہوں ، خفیہ ، عارضی ، فرینڈ شپ ، ویک اینڈ یا طلاق کے ساتھ مشروط شادیاں کبھی بھی اسلامی نہیں کہلائی جا سکتیں۔ ان ساری تجاویز میں بے وفائی ، نفاق ، سخت دلی ، ہوس پروری ، نفس پرستی اور حیوانیت کا عنصر نمایاں ہے جو اسلام کے روح کے خلاف ہے۔ بنیادی بات یہ ہے کہ کسی غیر اخلاقی عمل کی اصلاح کسی دوسرے غیر اخلاقی عمل سے نہیں ہوتی۔ انسانی ارتقا کو اب اس حد تک تو پہنچ جانا چاہیے کہ مردو زن ایک دوسرے کو انسان ہی سمجھیں اور اس ناطے ایک دوسرے کا احترام ایسے ہی کریں جیسے وہ خود اپنا کرتے ہیں ۔ عورتوں کو کال کوٹھری میں بند کر کے اور اسے سر سے پیر تک مبحھوس کر کے انسانی معاشرت ترقی کر سکتی ہے نہ اسے برہنہ کر کے اورمحافل کی زینت بنا کے اسے آزادی اور برابری کا خواب دکھا کر ۔ احترامِ آدمیت یا انسانیت کے تقاضے اور ہیں ۔ اصل کام اپنے اندر کے جانور اور حیوانیت کو لگام دینے کا ہے۔ اس کی تربیت کر کے انسان بنانے کی اشد ضرورت ہے خصوصاََ مردوں کو اس لئے کہ عورتوں میں ایک فطری حیا عموماً پائی جاتی ہے۔ افسوس کہ ہم اپنی وحشت و بے عقلی میں اللہ کے پیغام کو سمجھ نہیں پائے۔ اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی رسی ، اور دامنِ رسول ۖ کو تھامے رہیے اور عقل کے دریچے کھولئے ، حکمتِ پیغامِ
الٰہی کو سمجھئے، صرف رسوم کی آبیاری ، بے عقلی کے فتاویٰ اور اندھی تقلید سے کام نہیں چلے گا۔

کہہ جاتا ہوں میں زورِ جنوں میں ترے اَسرار
مجھ کو بھی صِلہ دے مری آشفتہ سری کا

Friday, December 4, 2009

بحث تقلید حصہ دوم

الحمد للہ ربّ ِ العالمین خَالِقِ السَّمٰوتِ وَالارضِینَ والصّلٰوۃ والسّلام علٰی مَن کَانَ نبیّا وّ اٰدَمُ بینَ الماءِ و َ الطِّین اَجملِ الا جمَلین اَ کمل الا کملینَ سیّدنا محمد وّ اٰلہ و اصحابہ و اھلِ بیتہ اجمعین

بحث تقلید حصہ دوم

مسئلہ تقلید پر مخالفین دو طرح کے اعتراضات کرتے ہیں۔ ایک واہیات طعنے جن کا جواب دینا ضروری نہیں۔ دوسرے وہ جن سے غیر مقلدین بھولے بھالے مقلدبھائیوں کو دھوکا دیتے ہیں یہ حسب ِ ذیل ہیں۔

اعتراض: اگر تقلید ضروری تھی تو صحابہ کرام کس کے مقلد تھے؟ جب وہ کسی کے مقلد نہیں تھے ہم بھی کسی کے نہیں۔

جواب: صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کو کسی کی تقلید کی ضرورت نہ تھی۔ جیسا کہ بحثِ تقلید حصہ اول میں بیان گزرا کہ مکلّف مسلمان دو طرح کے ہوتے ہیں۔ ایک مجتہد(مقلَّد)۔دوسرا غیر مجتہد(مقلِّد)۔مجتہد وہ ہے جس میں اس قدر علمی لیاقت اور قابلیت ہو کہ قرآنی اشارات و رموز سمجھ سکے اور کلام کے مقصدکو پہچان سکےاس سے مسائل نکال سکے۔ ناسخ و منسوخ کا پورا علم جانتا ہو ۔ علمِ صرف و نحو و بلاغت وغیرہ میں اس کو پوری مہارت حاصل ہو۔ احکام کی تمام آیتوں اور احادیث پر اس کی نظر ہو۔اس کے علاوہ ذکی اور خوش فہم ہو (تفسیراتِ احمدیہ)۔

اب آپ ہی بتائیں کہ امام اعظم ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ جس قرآن کی آیتوں سے مسئلے استنباط کریں اس قرآن کے صحابہ کرام رضی اللہ عنھم حافظ تھے یا نہیں اور امام اعظم رحمۃاللہ علیہ جن احادیث سے مسئلے استنباط کرتے ہیں کیا وہ احادیث صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کو نہیں آتی تھیں تو جن آیات و احادیث پر امام اعظم رحمۃاللہ علیہ کو اتنا کمال حاصل تھا اور وہ ناسخ و منسوخ کا علم جانتے تھے بلاغت کا علم جانتے تھے اور قرآنی اشارات و رموز کو سمجھتے تھے تو کیا صحابہ کرام رضی اللہ عنھم یہ علم نہیں جانتے تھے صحابہ کرام تو ہر وقت صاحب قرآن ﷺ کہ خدمت میں رہتے تھے اور احادیث صحابہ کرام سے ہو کر ہی تو امام اعظم تک پہنچی تھیں امام شا فعی و امام مالک و امام حنبل رحمھم اللہ تعالٰی تک پہنچیں تھیں تو اب آپ فیصلہ کریں کہ صحابہ کرام مجتہد ہوئے کہ نہیں ۔ بالیقین تمام صحابہ کرام مجتہد تھے اور مجتہد پر تقلید واجب نہیں ہوتی ۔ کما مرّفی بحث تقلید حصہ اول

اور ہمارے چاروں ائمہ مجتہدین صحابہ ہی کی پیروی کرتے ہیں مشکٰوۃ باب فضائل صحابہ میں ہے

اصحابی کالنجوم اقتدیتم اھتدیتم میرے صحابہ ستاروں کی مانند ہیں ان کی پیروی کرو ہدایت پا لو گے۔

علیکم بسنّتی و سنّۃ الخلفاءِ الراشدین۔ تم میری اور میرے خلفاء راشدین کی سنت کو لازم پکڑو۔

اب اعتراض والے کو سمجھ آ جانا چاہئے کو صحابہ کسی کے مقلد نہیں تھے کیوں کے وہ خود مجتہد تھے اور ہم مقلد اس لیے ہیں کے ہم مجتہد نہیں۔

اور عقل کا تقاضا بھی یہی ہے کہ نہر سے پانی اُسی کھیت کو دیا جاتا ہے جو دریا سے دور ہو مکبّرین کی آواز پر وہی نماز پڑھے گا جو امام سے دور ہو گا۔ جو کھیت دریا کے کنارے پر ہو اسے نہر کے پانی کی ضرورت نہیں اور جو صف اول میں ہو اسے مکبّر کی ضرورت نہیں اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم بھی صف اول کے مقتدی ہیں۔ وہ بلا واسطہ حضور نبئ اکرم ﷺ سے فیض لینے والے ہیں ہم اس بحر رحمت سے دور ہیں لہٰذا ہم نہر کے حاجتمند ہیں ۔ اور ایک سمندر سے بے شمار نہریں جاری ہوتی ہیں آپﷺ کے سینہ انور میں موجزن سمندر ِعلم سے بھی بے شمار نہریں نکلی ہیں اور ہم اس نہر علم سے وابسطہ ہیں جو امام اعظم رحمۃاللہ علیہ کے سینے سے ہوتی ہوئی ہم تک پہنچی اس لیے ہم حنفی کہلاتے ہیں اسی طرح جو امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ کے سینہ سے ہو کر آئی اس نہر سے وابسطہ شافعی کہلائے۔ و علی ھذا القیاس۔پانی سب کا ایک ہی ہے مگر نام جدا جدا اور ان نہروں کی ہمیں ضرورت پڑی نہ کہ صحابہ کرام کو جیسا کہ حدیث کی سند ہمارے لیے ہے صحابہ کے لیے نہیں۔

اعتراض: رہبری کیلئے قرآن و حدیث ہی کافی ہے ان میں کیا نہیں جو فقہ سے حاصل کریں کیوں کے قرآن میں ارشاد ہے کہ :

نہ کوئی تر اور نہ کوئی خشک چیز جو اس روشن کتاب میں ہم نے لکھی نہ ہو" تو مجتہد کے پاس کیا لینے جائیں۔

جواب: قرآن و حدیث بے شک رہبری کیلئے کافی ہیں اور ان میں سب کچھ ہے۔ مگر ان سے مسائل نکالنے کی قابلیت ہوناچاہئے اور وہ قابلیت کیا ہے وہ پہلے اعتراض کے جواب میں تفسیرات احمدیہ کے حوالے سے گزر چکی اور جس میں یہ قابلیت ہو وہی مجتہد ہوتا ہے۔ اگر قابلیت نہ ہو گی تو خود بھی گمراہ ہوں گے اور دوسروں کو بھی کریں گے اور قرآن نے یہ بھی تو فرما دیا ہے نا

یُضِلُّ بِہٖ کَثِیۡرًا ۙ وَّیَہۡدِیۡ بِہٖ کَثِیۡرًا ؕ سورۃ البقرۃ ، آیت۲۶

ترجمہ: اللّٰہ بہتیروں کو اس سے گمراہ کرتا ہے اور بہتیروں کو ہدایت فرماتا ہے

اس کی تفسیر ہے کہ اس مثل سے بہتوں کو گمراہ کرتا ہے جن کی عقلوں پر جَہل نے غلبہ کیا ہے اور جن کی عادت مکابرہ و عناد ہے اور جو امرِ حق اور کھلی حکمت کے انکار و مخالفت کے خوگر ہیں اور باوجود یکہ یہ مثل نہایت ہی برمَحل ہے پھر بھی انکار کرتے ہیں اور اس سے اللّٰہ تعالٰی بہتوں کو ہدایت فرماتا ہے جو غور و تحقیق کے عادی ہیں اور انصاف کے خلاف بات نہیں کہتے وہ جانتے ہیں کہ حکمت یہی ہے کہ عظیمُ المرتبہ چیز کی تمثیل کسی قدر والی چیز سے اور حقیر چیز کی ادنٰی شے سے دی جائے ۔ بحوالہ تفسیر خزائن العرفان

قرآن پاک ایک ایسا سمندر ہے کہ اس میں غوطہ لگانا ہر کسی کے بس کی بات نہیں ۔ جس طرح سمندر سے موتی نکالنے کیلئے ماہر غوطہ خور کی ضرورت ہوتی ہے اسطرح اس قرآن پاک کے علمی سمندر سے مسئلوں کے موتی چننے کیلئے بھی ماہر مجتہد کی ضرورت ہوتی ہے اور طب کی کتابوں میں سب کچھ لکھا ہوتا ہے مگر نسخہ بنوانے کیلئے طبیب کے پاس کیوں جاتے ہیں کیونکہ وہ ماہر ہوتا ہے اسی طرح قرآن پاک فصیح و بلیغ ہے ہر کسی کی سمجھ میں نہیں ا ٓتا۔اور قرآن و احادیث روحانی دوائیں ہیں اور امام روحانی طبیب

امام اعظم ابو حنیفہ رحمۃاللہ علیہ پر افتراء کا جواب

بعض لوگ امام اعظم رحمہ اللہ تعالی کے بارے میں یہ افتراء باندھتے ہیں کہ ان کو تو حدیث آتی ہی نہیں تھی اور ان سے تو صرف سات احادیث مروی ہیں اور ان کے قول احادیث کے مخالف ہیں اور کہتے ہیں کہ امام صاحب خود فرماتے ہیں کہ جو حدیث صحیح ثابت ہو جائے وہ ہی میرا مذہب ہے لہٰذہ ہم نے ان کے قول حدیث کے خلاف پا کر چھوڑ دئیے

افتراء کا جواب

امام اعظم رحمۃ اللہ علیہ بہت بڑے محدث تھے ۔ بغیر حدیث دانی اس قدر مسائل کیسے استنباط ہو سکتے ہیں ان کی کتاب مسند امام ابو حنیفہ اور امام محمد کی کتاب مؤطا امام محمد سے ان کی حدیث دانی معلوم ہوتی ہے ۔ اب اعتراض کرنے والے سے یہ پوچھا جائے کے حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ سے روایات بہت کم ملتی ہیں تو کیا وہ محدث نہ تھے ۔کمی روایات احتیاط کی وجہ سے ہے امام اعظم کی تمام روایات صحیح ہیں کیونکہ ان کا زمانہ حضور نبئ کریمﷺ سے بہت قریب ہے اورامام اعظم تابعی ہیں آپ کی ملاقات ۷ صحابہ کرام سے ہوئی ہے۔ بعد میں روایات میں ضعف آیا ہے جب زمانہ حضور نبئ کریمﷺ سے دور ہوا اسناد بڑھتی گئیں اور ضعف پیدا ہوا اور بعد کا ضعف امام اعظم کو مضر نہیں ۔

اور سب سے اہم بات یہ کہ صحیح مسلم شریف باب فضائل صحابہ میں ہے

عن عمران بن حصین انَّ رسولَ اللہِ صلی اللہ علیہ وسلم قالَ اَنَّ خیرکم قرنی ثمَّ الّذین یلونھم ثمّ الذین یلونھم قال عمرانُ فلا اَدری أ قال رسولُ اللہِ ﷺ بعدَ قرنہ مرَّتینِ او ثلاثۃ

ترجمہ: حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا بے شک تم میں سے بہتر میرا زمانہ ہے پھر اُسکے بعد والا جو اس سے ملا ہوا ہے پھر اسکے بعد والا جو اس سے ملا ہوا ہے اس کہ بعد راوی فرماتے ہیں کہ مجھے یاد نہیں کہ حضور اکرم ﷺ نے اپنے زمانے کے بعد دو زمانوں کا ذکر کیا یا تین کا۔

اب اس حدیث میں اگر کم از کم عدد بھی لیا جائے تب بھی تین زمانے بنتے ہیں ایک حضور ﷺ کا ایک اس کے بعد یعنی صحابہ کا اور ایک اس کے بعد یعنی تابعین کا ۔اور امام اعظم رضی اللہ عنہ تابعی ہیں اب آپ ہی بتائیں کے جب حضورﷺ نے تابعین کے زمانے کو بھی اچھا قرار دیا تو آج کے ان پڑھ مولوی کو کیا حق پہنچتا ہے کہ ان پر اعتراض کرےان پر اعتراض آقا ﷺ کی حدیث پر اعتراض ہے کیونکہ آقا ﷺ نے تابعین کے زمانے کو بھی خیرالقرون میں ذکر فرمایا ہے

اللہ ہم سب کو استقامت فی الدّین ، بے ہدایتوں کو ہدایت اور بد مذہبوں اور گستاخوں سے پناہ میں رکھے آمین

دعاؤں کا طالب

فقیر اہلسنّت ابوالغوث عطاری غفرلہ الباری


Monday, November 16, 2009

قاسم نانوتوی کی قبر

نانوتوی کی قبر اور وحی کا نزول

مولانا رفیع الدین صاحب مجددی سابق مہتمم دارالعلوم کا مکاشفہ ہے کہ حضرت مولانا محمد قاسم نانوتوی بانی دارالعلوم دیوبند کی قبر عین کسی نبی کی قبر ہے ـ
( مبشرات دارالعلوم ص 36 مطبوعہ محکمہ نشر و اشاعت دارالعلوم دیوبند انڈیا )

ایک دن مولانا نانوتوی نے اپنے پیر و مرشد حضرت حاجی امداد اللہ صاحب سے شکایت کی کہ : ـ
جہاں تسبیح لےکر بیثھا بس ایک مصیبت ہوتی ہے اس قدر گرانی کہ جیسے 100 سو 100 سو من کے پتھر کسی نے رکھ دیئے ہوں زبان و قلب سب بستہ ہو جاتے ہیں ـ
( سوانح قاسمی ج 1 ص 258 مطبوعہ مکتبہ رحمانیہ لاہور )

اس شکایت کا جواب حاجی صاحب کی زبانی کہ یہ نبوت کا آپ کے قلب پر فیضان ہوتا ہے اور یہ وہ ثقل ( گرانی ) ہے جو حضور صلی اللہ تعالی علیہ و سلم کو وحی کے وقت محسوس ہوتا تھا تم سے حق تعالی کو وہ کام لینا ہے جو نبیوں سے لیا جاتا ہے ـ
( سوانح قاسمی ج 1 ص 259 مطبوعہ مکتبہ رحمانیہ لاہور )

عین کسی نبی کی قبر ہے ، نبوت کا فیضان وحی کی گرانی اور کار انبیاء کی سپردگی ان سارے لوازمات کے بعد نہ بھی صریح لفظوں میں ادعائے نبوت کیا جائے جب بھی اصل مدعا اپنی جگہ پر ہے ـ

نانوتوی صاحب فرشتہ تھے
مولوی نظام الدین صاحب مغربی حیدرآبادی مرحوم جو مولانا رفیع الدین صاحب سے بیعت تھے اور صالحین میں سے تھے احقر سے فرمایا جبکہ احقر حیدرآباد گیا ہوا تھا کہ مولانا رفیع الدین فرماتے تھے کہ میں پچیس برس مولانا نانوتوی کی خدمت میں حاضر ہوا ہوں اور کبھی بلا وضوء نہیں گیا میں نے انسانیت سے بالا درجہ ان کا دیکھا ہے وہ شخص ایک فرشتہ مقرب تھا جو انسانوں میں ظاہر کیا گیا ـ
( ارواح ثلثہ ص 231 مطبوعہ مکتبہ رحمانیہ لاہور )

دیوبندیوں سے یہ کوئی پوچھے کہ اپنے مولوی کی تعریف کرتے وقت نور و بشر کی بحث بھول گئے ـ یہ تو نانوتوی کو بشر ہی نہیں مانتے فرشتہ مانتے ہیں ـ بھول گئے تقویۃ الایمان کے مصنف اپنے غبی امام کی کفر کی فیکٹری ؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟

نانوتوی کا بولنا خدا کا بولنا ( معاذ اللہ عزوجل ) ـ
اشرف علی تھانوی اپنی کتاب ارواح ثلثہ میں لکھتے ہیں کہ خاں صاحب نے فرمایا کہ مولانا احمد حسن صاحب بڑے معقولی تھے اور کسی کو اس میدان میں اپنا ہم عصر نہیں سمجھتے تھے ایک دن حضرت نانوتوی کا وعظ ہوا اور اتفاق سے سامنے وہی تھے اور مخاطب بن گئے اور معقولات ہی کے مسائل کا رد شروع ہوا ـ وعظ کے بعد انہوں نے کہا اللہ اکبر یہ باتیں کسی انسانی دماغ کی نہیں ہو سکتیں ، یہ تو خدا ہی کی باتیں ہیں ـ
( ارواح ثلثہ ص 232 مطبوعہ مکتبہ رحمانیہ لاہور )

نانوتوی کا دل کے خطرات جان لینا : ـ
ایک بار مولوی نانوتوی کا کسی گاؤں میں گزرا ہوا جہاں شیعوں کی کثیر آبادی تھی سنیوں کو جب ان کی آمد کی خبر ہوئی تو موقع غنیمت جانا اور ان کے وعظ کا اعلان کر دیا اعلان سنتے ہی شیعوں میں ایک کھلبلی مچ گئی انہوں نے جلسہ وعظ کو ناکام بنانے کے لیے لکھنو سے چار مجتہد بلوائے اور پروگرام یہ طے پایا کہ مجلس وعظ میں چاروں کونوں پر یہ چاروں مجتہد بیٹھ جائیں اور چالیس اعتراض منتخب کرکے 10 دس 10 دس اعتراض چاروں پر بانٹ دیئے گئے کہ اثنائے وعظ میں ہر ایک مجتہد الگ الگ اعتراض کرے اور اس طرح جلسہ وعظ کو درہم برہم کے دیا جائے اب اس کے بعد کا واقعہ خود سوانح نگار کے الفاظ میں سنیے لکھتے ہیں کہ حضرت والا کی کرامت کا حال سنیے کہ حضرت نے وعظ شروع فرمایا جس میں گاؤں کی تمام شیعہ برادری بھی جمع تھی اور وہ وعظ ایسی ترتیب سے اعتراضوں کے جواب پر مشتمل شروع ہوا جس ترتیب سے اعتراضات کے کر مجتہدین بیٹھے تھے گویا ترتیب کے مطابق جب کوئی مجتہد اعتراض کرنے کے لیے گردن اٹھاتا تو حضرت اسی اعتراض کو خود نقل کرکے جواب دینا شروع فرماتے یہاں تک کہ وعظ پورے سکون کے ساتھ پورا ہوا ـ
( حاشیہ سوانح قاسمی ج 2 ص 71 مطبوعہ مکتبہ رحمانیہ لاہور )

مولوی منصور علی خان بیان کرتے ہیں کہ
مجھے ایک لڑکے سے عشق ہوگیا اور اس قدر اس کی محبت نے طبیعت پر غلبہ پایا کہ رات دن کے تصور میں رہنے لگا میری عجیب حالت ہوگئی تمام کاموں میں اختلال ہونے لگا حضرت مولانا نانوتوی کی فراست ( علم غیب ) نے بھانپ لیا ـ

لیکن سبحان اللہ تربیت و نگرانی اسے کہتے ہیں کہ نہایت بے تکلفی کے ساتھ حضرہت نے میرے ساتھ دوستانہ برتاؤ شروع کردیا اور اس قدر بڑھایا کہ جیسے دو یار آپس میں بے تکلف دل لگی کرتے ہیں ـ

اب سنیے بے شرمی کی حد
یہاں تک کہ خود ہی اس محبت کا ذکر چھیڑا فرمایا ہاں بھائی وہ تمہارے پاس آتے بھی ہیں یا نہیں ؟ میں شرم و حجاب سے چپ رہ گیا تو فرمایا نہیں بھائی یہ حالات تو انسان پر ہی آتے ہیں اس میں چھپانے کی کیا بات ہے غرض اس طریق سے مجھ سے گفتگو کی کہ میری ہی زبان سے اس کی محبت کا اقرار کروالیا اور کوئی خفگی اور ناراضگي نہیں ظاہر کی بلکہ دلجو‏ئی فرمائی ـ
( ارواح ثلثہ ص 236 مطبوعہ مکتبہ رحمانیہ لاہور )


مزید فرماتے ہیں :ـ

اس کے بعد جب میری بے چینی بہت زیادہ بڑھ گئی اور عشق کے ہاتھوں میں بالکل تنگ آگیا اور ناچار ایک دن مولانا نانوتوی کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا حضرت للہ میری اعانت فرمائیے میں تنگ آگیا ہوں اور عاجز ہو چکا ہوں اس لیے دعا فرما دیجیے کہ اس لڑکے کا خیال تک میرے قلب سے محو ہو جائے تو ہنس کر فرمایا کہ بس مولوی صاحب کیا تھک گئے بس جوش ختم ہو گیا ہے ؟ میں نے عرض کیا کہ حضرت میں سارے کاموں سے بیکار ہو گیا نکما ہو گیا اب مجھ سے یہ برداشت نہیں ہو سکتا خدا کیلئے میری امداد فرمائیے فرمایا بہت اچھا بعد مغرب جب میں نماز سے فارغ ہوں تو آپ موجود رہیں ـ

( ارواح ثلثہ ص 237 مکتبہ رحمانیہ لاہور )


نماز کے بعد کا واقعہ : ـ
میں مغرب کی نماز پڑھ کر چھتہ کی مسجد میں بیٹھا رہا جب حضرت صلوۃ الاوابین سے فارغ ہوئے تو آواز دی مولوی صاحب میں نے عرض دیا کہ حضرت حاضر ہوں میں سامنے حاضر ہوا اور بیٹھ گیا فرمایا کہ ہاتھ لاؤ میں نے ہاتھ بڑھایا میرا ہاتھ اپنے بائیں ہاتھ کی ہتھیلی پر رکھ کر میری ہتھیلی کو اپنی ہتھیلی سے اس طرح رگڑا جیسے بان بنے جاتے ہیں خدا کی قسم میں نے بالکل عیانا دیکھا کہ میں عرش کے نیچے ہوں اور ہر چہار طرف نور اور روشنی نے میرا احاطہ کر لیا ہے گویا میں دربار الہی میں حاضر ہوں ـ
( ارواح ثلاثہ ص 237 مطبوعہ مکتبہ رحمانیہ لاہور )

علم غیب کی نقاب کشائی کی ذرا یہ شان ملاحظہ فرمائیے کہ پارس پتھر کی طرح ہتھیلی پر ہتھیلی رگڑتے ہی آنکھیں روشن ہو گئیں اور عرش تک کے سارے حجابات آن واحد میں اٹھ آئے اور صرف اٹھ ہی نہیں گئے بلکہ رنگین مزاج شاگرد کو پلک جھپکتے وہاں پہنچا دیا جہاں بجز سید الانبیاء صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے عالم گیتی کا کوئی انسان اب تک نہیں پہنچ سکا ـ


ڈھیٹ اور بے شرم دنیا میں دیکھے ہیں بہت

سب پہ سبقت لے گئی ہے بے حیائی آپ کی

حق آن لائن کے وزٹرز